May Tahir Ul Qadri Explain!

طاہر القادری صاحب کے نام! بقول شمس تبریزطاہرالقادری کی جلد میش میں تو بہت کچھ ہے جلد خویش میں کیا کچھ ہے۔ اس کی ایک مثال جس کا میں خود چشم دید گواہ ہوں:- پرویزمشرف کے اقتدار میں آنے کے فوراً بعد جو یوم حسین کی تقریب معین الدین حیدر کی زیر صدارت منعقد ہوئی۔جس کے مہمان خصوصی طاہرالقادری صاحب تھے اور سٹیج سیکریٹری غضنفر مہدی صاحب تھے۔ ہوٹل کا ھال سامعین سے بھر ا ہوا تھا۔ جب طاہر القادری صاحب کی باری آئی تو انہوں نے فرمایاکہ پرویز مشرف کا وہی ایجنڈا ہے جو امام حسین کا تھا اس پر میرا بیٹا بلال حیدر جو اس وقت اے لیول کا طالب علم تھا اس نے چائے پر طاہر القادری صاحب سے پوچھا کہ کیا حسین یزید کا برخاست شدہ سپہ سالارتھااور انہوں نے اس کے خلاف بغاوت کی تھی ۔ حسین اور پرویز مشرف میں کیا مماثلت ہے؟ تو طاہرالقادری صاحب بعد میں ان کے پاس حاضر ہونے کی تلقین کرتے ہوئے چل پڑے۔البتہ اس اثناءمیں جب معین الدین حیدر صاحب کی تقریر کی باری آئی تو انہوں نے بڑے دل پذیر انداز میں کہا کہ حسین بننے کے لیے نانی خدیجہ ہو۔ ماں فاطمہ ہو۔ نانا محمد عربی ہوں باپ حیدر کرار ہو۔ دادا ابو طالب ہو۔بہن زینب ہو تو حسین بنتا ہے۔ایک مہذب شخص کی طرف سے طاہر القادری صاحب کے لیےمعین الدین حیدر کی یہ باتیں میرے بیٹے کی تلخ باتوں سے زیادہ وقیع وموئژ ہیں۔کیا طاہر القادری صاحب کا آج بھی یہی عقیدہ ہےکہ مشرف اور حسین کا ایک ہی ایجنڈاہے ۔ خدا کے لیے تمھیں اگر اتنا علم ہے جس کے تم مدعی ہو تو اسے اپنے عمل سے ظاہر کرو۔ یہ قوم صدیوں سے لچھے دار خطبے سن رہی ہے۔ ناموس رسالت کے لیے اپنا سر دو اور اس کے لیے کسی مجمع کا انتظار نہ کرو۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *